اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،سجاد حیدر خان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پاکستانی فوجی 1982 سے مختلف مشنز، لاجسٹک انتظامات اور تربیتی پروگراموں کے تحت سعودی عرب میں موجود ہیں۔
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ گزشتہ سال اسلام آباد اور ریاض کے درمیان باہمی اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد بھی سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی جاری رہی ہے۔
ترجمان کے مطابق، 5 اکتوبر کو ریاض میں مکہ اتحاد کی اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں تینوں ممالک نے اتفاق کیا کہ مطلوبہ فوجی دستے اور وسائل سکیورٹی حالات اور ضروریات کے مطابق متحرک کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ فوجیوں کی تعداد، تعیناتی کے وقت اور مقام کا تعین اتحاد کے تنظیمی ڈھانچے اور کمانڈ ہیڈکوارٹر کی ذمہ داری ہے، جبکہ رکن ممالک ان فیصلوں کے مطابق اپنا حصہ فراہم کریں گے۔
سجاد حیدر خان نے زور دیا کہ مکہ فوجی اتحاد دفاعی نوعیت کا حامل ہے۔ ان کے مطابق، اتحاد کے فوجی انصار اللہ کے خلاف کارروائی کے لیے سعودی سرحد عبور کرکے یمن میں داخل نہیں ہوں گے، بلکہ ان کا مشن سعودی سرزمین کا دفاع اور ملک کی خودمختاری کا تحفظ ہوگا۔
انہوں نے یمن میں انصار اللہ کے ٹھکانوں پر سرحد پار فضائی حملوں میں پاکستانی جنگی طیاروں کی شرکت سے متعلق خبروں کو قیاس آرائیاں قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کے وزیر اطلاعات بھی ان اطلاعات کی تردید کر چکے ہیں۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے افغانستان کی طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کی جانب سے اسلام آباد پر داعش خراسان سے تعلق کے الزام کو بھی مسترد کردیا۔
سجاد حیدر خان نے دعویٰ کیا کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل اور دیگر علاقوں میں دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں۔ انہوں نے تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور دیگر تنظیموں کی افغانستان میں موجودگی کا الزام عائد کیا۔
ان کے مطابق، پاکستان نے سیاسی اور سکیورٹی سطح پر افغان حکام کو ان مبینہ ٹھکانوں کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوجی کارروائیوں میں ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں موجود عناصر پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
ترجمان نے کہا کہ افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کے لیے دستیاب گنجائش بھی بڑھی ہے۔
آپ کا تبصرہ